جمعہ 31 جولائی 2026 - 19:32
دفاعِ ولایت ہی امامِ عصرؑ کی نصرت کا حقیقی ذریعہ ہے: حجۃ الاسلام سید احمد علی عابدی

حوزہ/ جامعۃ امام امیر المؤمنینؑ نجفی ہاؤس ممبئی کے مدیر، حجۃ الاسلام والمسلمین سید احمد علی عابدی نے 15 صفر المظفر کو نجف اشرف کے مدرسہ امام حسن المجتبیٰؑ میں منعقدہ مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام عصرؑ کے حقیقی ناصر بننے کے لیے دفاعِ ولایت اور عقائد اہل کی حفاظت ناگزیر ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ امام امیر المؤمنینؑ نجفی ہاؤس ممبئی کے مدیر، حجۃ الاسلام والمسلمین سید احمد علی عابدی نے 15 صفر المظفر کو نجف اشرف کے مدرسہ امام حسن المجتبیٰؑ میں منعقدہ مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام عصرؑ کے حقیقی ناصر بننے کے لیے دفاعِ ولایت اور عقائد اہل کی حفاظت ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیارتِ عاشورا اپنی سند اور فقہائے کرام کے مسلسل عمل کے اعتبار سے نہایت معتبر زیارت ہے۔ اگر یہ زیارت معتبر نہ ہوتی تو ائمہ اہل بیتؑ اس کی تلاوت کی اس قدر تاکید نہ فرماتے۔ انہوں نے بتایا کہ زیارتِ عاشورا میں دشمنانِ اہل بیتؑ پر لعنت کے بعد سب سے اہم دعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں امام حسینؑ کے خون کا بدلہ لینے والوں میں، امامِ منصور اور امامِ حق کے ساتھ شامل فرمائے۔ اس دعا کا زیارت میں دو مرتبہ تکرار ہونا اس کی غیر معمولی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

مولانا سید احمد علی عابدی نے کہا کہ تمام اولیائے الٰہی اور ائمہ معصومینؑ کی آرزو یہی رہی ہے کہ وہ امامِ حق کے انصار میں شمار ہوں۔ امام کے ناصر بننے کا راستہ صرف دعووں سے نہیں بلکہ ولایت کے دفاع سے ہموار ہوتا ہے، کیونکہ اسلام کی حقیقی شناخت اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کا معیار ولایتِ اہل بیتؑ ہے۔ دشمن ہمیشہ ولایت ہی کو اپنا ہدف بناتے رہے ہیں۔

انہوں نے امام جعفر صادقؑ اور ہشام بن حکم کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ امامؑ نے مجلس میں موجود بزرگ اصحاب کے باوجود ہشام بن حکم کو اپنے قریب جگہ دی، کیونکہ انہوں نے ولایت اور عقائدِ اہل بیتؑ کا بھرپور دفاع کیا تھا۔ اسی طرح ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ امامؑ نے ایک گمنام شخص کو قبائلی سرداروں پر ترجیح دی، کیونکہ اس نے اہل بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میں شیعوں کے عقائد کا دفاع کیا اور مخالفین کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا تھا۔ امامؑ نے اس کی فضیلت کی دلیل قرآن کریم کی آیت "یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ" سے پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی امام عصرؑ سے قربت حاصل کرنے کا راستہ وہی ہے جو ہشام بن حکم نے اختیار کیا تھا، یعنی دفاعِ ولایت، عقائدِ اہل بیتؑ کی حفاظت اور حق کی تبلیغ۔ انہوں نے تاکید کی کہ امام زمانہؑ کے حقیقی ناصر وہی ہیں جو ہر دور میں ولایت کا دفاع کریں۔

خطاب کے اختتام پر مولانا سید احمد علی عابدی نے کہا کہ اربعین حسینیؑ کے اصل عزادار اور صاحب عزا خود امام زمانہ حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہیں، لہٰذا ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے عقیدے، کردار اور عمل کے ذریعے امامؑ کی نصرت اور دفاعِ ولایت کی ذمہ داری ادا کرے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha